Our mission is to make a positive difference in the career and lives of Aligarh Muslim University Students and Alumni of AMU.

Yadoon Ke Jharoke

The Trophy named after Mrs.Khursheed Nur ul Hassan, wife of late Prof.Nur ul Hassan of AMUA who later became the Governor of west Bengal
Read more...
 
Jun 27-08 : Life on Mars - Possible?... Print E-mail
Written by bbc urdu   
Friday, 27 June 2008

مریخ کی سطح پر مٹی میں بظاہر ایسے اجزاء ضروری مقدار میں موجود ہیں جن سے زندگی کی نشو نما ہو سکے۔ ناسا کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کم سے کم ایسپیراگس (موصلی سفید) تو شاید اس مٹی میں بچ جائے گا۔

فِینکس مارز لینڈر مِشن کی ابتدائی تحقیق سے معلوم ہوا ہے مریخ کی مٹی میں القلی کی شرح ماہرین کے اندازے سے زیادہ ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وہ ان نتائج سے حیرت زدہ رہ گئے ہیں۔

تازہ ترین تحقیق سے مریخ پر زندگی کے لیے سازگار حالات کی موجودگی کے امکان کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔

جامعۂ ایرِیزونا کے سیم کوناویز نے جو اس منصوبے کے چیف کیمیادان ہیں کہا کہ ’ہمیں بنیادی طور پر ایسے عناصر ملے ہیں جو ماضی، حال یا مستقبل میں زندگی کی بقاء کے لیے ناگزیر ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ مٹی کے نمونوں پر مزید تجربات کرنے پڑیں گے لیکن یہ ’بہت سازگار ہے۔۔۔۔ اور اس میں کوئی زہریلی خصوصیت نہیں ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ یہ اس طرح کی مٹی ہے جو آپ کو گھر کے پِچھواڑے میں مل سکتی ہے۔ مٹی میں نہ صرف تیزابیت اندازے سے کم ہے بلکہ اس میں میگنیشیم، سوڈیم، پوٹیشیم اور دیگر عناصر کے آثار موجود ہیں۔

مریخ کی مٹی کے بارے میں اس رپورٹ کی بنیاد مارز لینڈر کے مشینی بازو سے سیارے کی سطح سے ڈھائی سنٹی میٹر نیچے سے حاصل کی گئی ایک مکعب سنٹی میٹر مِٹی ہے۔ اس مٹی کو پھر زمین سے بھیجے گئے پانی میں مِلا کر خلائی مشین کے آٹھ میں سے ایک اوون میں گرم کیا گیا۔

 
< Prev   Next >
© 2008 Aligarh Muslim University - Mera Chaman
Terms & Conditions